دوست نواز

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - دوستوں سے نیکی کرنے والا، دوستوں پر مہربانی کرنے والا۔ "میں نے کبھی یہ بات سوچی تک نہیں تھی کہ تو بھی دوست نواز ہے۔"      ( ١٩٧١ء، فہمینہ، ٢٧٦ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'دوست' کے ساتھ 'نواختن' سے صیغہ امر 'نواز' بطور لاحقۂ فاعلی لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٩٧١ء سے "فہمینہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - دوستوں سے نیکی کرنے والا، دوستوں پر مہربانی کرنے والا۔ "میں نے کبھی یہ بات سوچی تک نہیں تھی کہ تو بھی دوست نواز ہے۔"      ( ١٩٧١ء، فہمینہ، ٢٧٦ )